ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلم پرسنل لاء بورڈکی اجلاس کی تیاریاں مکمل، جمعہ کو ہوگی عاملہ میٹنگ؛ خواتین کی بھی ہوگی کانفرنس

مسلم پرسنل لاء بورڈکی اجلاس کی تیاریاں مکمل، جمعہ کو ہوگی عاملہ میٹنگ؛ خواتین کی بھی ہوگی کانفرنس

Wed, 16 Nov 2016 18:14:04    S.O. News Service

کولکاتہ16نومبر(ایس او نیوز) آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکے اجلاس عام کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔اس سے قبل18نومبربروز جمعہ کو بورڈ کی عاملہ کی میٹنگ ہوگی جس میں ملک کے حالات کے پسِ منظرمیں مسلم پرسنل لاء اورمسلمانوں سے متعلق اہم امورپرتبادلہ خیال ہوگااورآگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ 19 نومبرکواراکین بورڈ کی میٹنگ ہوگی۔اور20 نومبرکودن کے دوبجے سے پارک سرکس میدان میں اجلاس عام ہوگا۔امید کی جارہی ہے کہ پانچ لاکھ سے زائد افراد کی شرکت ہوگی۔ بورڈ کی میٹنگ پرپورے ملک کے مسلمانوں کی نگاہ ہے۔ مزید براں 18 نومبرکوخواتین کی پریس کانفرنس ہوگی اس کے علاوہ 20  نومبرکوخواتین کی کانفرنس بھی ہوگی جس میں بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت کی امید ہے۔

استقبالیہ کمیٹی کے ذرائع نے بتایاکہ پور ے مغربی بنگال اورجھارکھنڈ نیزاطراف واکناف میں بورڈ کے اجلاس کے سلسلہ میں عوامی جوش وخروش زوروں پرہے اورہرطرف بورڈ کوعوام کا ساتھ مل رہاہے۔ ادھراس کی دستخطی اورعوامی بیداری مہم بھی کافی زوروشورسے ملک بھرمیں جاری رہی اورائمہ مساجد نے نکاح وطلاق،وراثت اورخواتین کے حقوق،اسلا م کے نظریات کے سلسلہ میں عوامی بیداری کی پوری کوشش کی۔ اس کے خاطرخواہ اثرات پورے ملک میں نظرآرہے ہیں۔ادھرچند دنوں قبل بنگال حکومت نے پارک سرکس میدان کو اجلاس عام کیلئے دینے سے انکارکردیاتھا لیکن استقبالیہ کے ذمہ دارایم پی سلطان احمداوردیگرذمہ داروں کی کوشش ثمرآورہوئی اورممتابنرجی نے یہ وسیع وعریض میدان دے دیا۔ انتظامیہ اپنی رابطہ مہم کے تحت علاقہ میں کوشاں ہے اورذمہ دارپوری تندہی کے ساتھ تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ملک کے حالات کے پس منظرمیں جب کہ لاء کمیشن نے یونیفارم سول کوڈ پرسوالنامہ جاری کیاجس میں مسلم پرسنل لاء سے متعلق بھی ایسے سوالات پوچھے گئے ہیں جوکئی خدشات کوجنم دیتے ہیں اوراس کے سیاست زدہ ہونے کاالزام لگایاجارہاہے۔مزیدحکومت نے طلاق ثلاثہ،تعداد ازدواج اورحلالہ پرسپریم کورٹ میں حلف نامہ دائرکیاہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈنے بھی اپنے حلف نامہ میں واضح کیاہے کہ مسلم پرسنل لاء قرآن پرمبنی قانون ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔آئین ہند نے ہرشہری کو اپنے مذہب پرعمل کرنے کی آزادی دی ہے۔اوریہ بنیادی دفعات کاحصہ ہیں لہٰذاانہیں ختم نہیں کیاجاسکتاہے۔ حکومت یاعدالت کواس میں ترمیم یامداخلت کاکوئی اختیارنہیں ہے۔حکومت بھی طلاق ثلاثہ کوانتخابی موضوع بنانے کی کوشش میں ہے ایسے میں بورڈ نے جہاں احتجاج اورعوامی ریلیوں سے گریزکامشورہ دیاہے وہیں پورے ملک میں سنجیدگی کے ساتھ دستخطی مہم چلاکرعوام میں بیداری پیداکرنے،مسلم پرسنل لاء سے واقفیت اوراسلامی عائلی قوانین کی معلومات عام کرنے کی کوشش کی ہے۔

بی جے پی اورآرایس ایس کاموقف ہے کہ مسلم خواتین ہی مسلم پرسنل لاء کے خلاف ہیں وہ اس میں تبدیلی چاہتی ہیں،چنانچہ بورڈ نے اپنی دستخطی مہم کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلم خواتین مسلم پرسنل لاء پرمطمئن ہیں،وہ بورڈ کے موقف کے ساتھ ہیں،چند گنی چنی خواتین کے موقف کوتمام خواتین پرنہیں تھوپاجاسکتا۔ جب کہ آرایس ایس اوربی جے پی مسلم خواتین کی ہمدرد بن کراسے زوروشورسے اٹھارہی ہیں،اس الزام کومزید تقویت مل جاتی ہے کہ چند لوگ حکومت کے آلہ کاربن کرغلط فہمی کوفروغ دے رہے ہیں۔ بورڈ کے موقف کی حمایت میں تقریباََ ایک کروڑدستخط حاصل کئے جاچکے ہیں جنہیں اسکین کرکے لاء کمیشن، ویمن کمیشن، صدرجمہوریہ اورپی ایم او بھیجاجارہاہے اورمسلمانوں کے جذبات سے انہیں آگاہ کیاجارہاہے کہ مسلمان کسی بھی صورت میں مسلم پرسنل لاء میں ترمیم کے حق میں نہیں ہیں۔گذشتہ ماہ ملی تنظیموں نے متحدہوکر مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں حکومت کے سامنے واضح کردیاگیاتھاکہ سرکاریونیفارم سول کوڈکی کوششوں سے بازآجائے اورمسلم پرسنل لاء میں کسی طرح کی چھیڑچھاڑنہ کرے۔اتحادکے اس مظاہرہ کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔بورڈکی عاملہ کی میٹنگ میں ان تمام کوششوں کا جائزہ لیاجائے گااورنئی حکمت عملی پربھی تبادلہ خیال ہوگا۔
 


Share: